رامپور،28؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر اور سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں فوج پر انتہائی قابل اعتراض بیان دے کر پھنس گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جوانوں کو خواتین نے مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں خواتین نے فوجیوں کے اعضاء کاٹ لئے،آسام اور جھارکھنڈ میں بھی خواتین نے فوجیوں کو مارا پیٹا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی کے راج میں ملک راہ سے بھٹک گیا ہے،ملک بیلٹ کی جگہ گولی کی راہ پر چل پڑا ہے، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔وہیں، فوج پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر بی جے پی نے اعظم خاں پر نشانہ لگایا ہے۔بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ اعظم خاں جیسے لوگ دہشت گردی کے دفاع میں بیان دیتے ہیں،وہ ہمیشہ ایسا کرتے آ رہے ہیں،وہ کبھی یہ بیان دیتے ہیں کہ صرف مسلمانوں کی وجہ سے جیت ہوئی تھی۔فوج پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے اعظم نے کہا کہ ایسے واقعات سے ملک کو شرمندہ ہونا چاہئے۔
ضلع رام پور میں ایس پی کیمپ آفس میں سابق وزیر اعظم خان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی میں سب سے بڑی سیاسی تحریک بابری مسجد رام جنم بھومی کا ہے، جس کی آج بھی ہندوستان قیمت ادا کر رہا ہے اور شاید اس کی ادائیگی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔اعظم خاں نے کہا کہ ہندوستان کا ماحول سب سے زیادہ بدنصیب اور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہندوستان اپنے راستے سے ہٹ رہا ہے،ملک کے سیاسی لوگ بیلٹ کے بجائے گولی کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں، جس کا انجام سامنے ہے۔کشمیر، جھارکھنڈ اور آسام میں خواتین فوجیوں کو پیٹ رہی ہیں۔عصمت دری کے واقعات کے نتیجے میں خواتین دہشت گرد ان کے ذاتی اعضاء کاٹ کر لے گئیں۔اس سے پورے ہندوستان کو شرمندہ ہونا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ہم پوری دنیا کو کیا منہ دکھائیں گے۔
جنید، نجیب کے قتل وہ ہیں، جو روشنی میں آ جاتے ہیں، لیکن عام طور پر جو زیادتی ہو رہی ہے، وہ عیاں نہیں ہے۔جب سر اترتے ہیں تو تاج اتر جاتے ہیں،انتہائی خطرناک کھیل ہو رہا ہے،عید کے موقع پر بہن اپنے بھائی کے گھر نہیں گئی، تاکہ ان کے چہروں اور ان کے نام کی شناخت نہ ہو ۔اعظم نے سوال کیا کہ کہاں لے جا رہے ہو ملک کو؟۔
اعظم خاں نے بی جے پی کارکنوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھگوا دوپٹے اوڑھ کر جوانی آ گئی،کسی وزیر نے کہا کہ یہ سماجوادی غنڈے ہیں تو پکڑو انہیں،اگر سماجوادی ہوتے تو پکڑے جاتے مگر یہ کس طرح پکڑے جائیں گے، کیونکہ ان گلو میں بھگوا دوپٹے پڑے ہیں،اگر گرفتار کریں گے تو تھانے جلا دئے جائیں گے۔داروغہ جی کو دوڑا دوڑا کر مارا جائے گا۔اس دوران انہوں نے صوبے کی یوگی حکومت پر بھی حملہ بولا۔